لگ رہے ہیں ابھی حضرات کو اخبار سے ہم
لگ رہے ہیں ابھی حضرات کو اخبار سے ہم
دن گزر جائے گا ہو جائیں گے بیکار سے ہم
اتنی الفت ہے قفس سے کہ خدا جانتا ہے
در جو کھلتا ہے لپٹ جاتے ہیں دیوار سے ہم
ہم کہ آئے ہیں اسیروں کی حفاظت کے لیے
گرچہ زندان میں لگتے ہیں گرفتار سے ہم
تیرے احساس کی تعریف کیا کرتے ہیں
بیچتے پھرتے ہیں نسخے ترے بیمار سے ہم
ہم پہ افسوس کرو آ کے زمانے والو
کتنی کم عمری میں اکتا گئے گھر بار سے ہم
تیری پرچھائی میں بھیگی ہوئی رعنائی شب
دیکھتے رہتے ہیں بیٹھے ہوئے بیکار سے ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.