Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں

حامد مختار حامد

ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں

حامد مختار حامد

ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں

پھر بھی دنیا کی نگاہوں میں گنہ گار ہوں میں

گردش وقت نے اس حال میں چھوڑا ہے مجھے

اب کسی شہر کا لوٹا ہوا بازار ہوں میں

در پہ رہنے دے مجھے ٹاٹ کا پردہ ہی سہی

تیرے اسلاف کا چھوڑا ہوا کردار ہوں میں

کتنا مضبوط ہے اے دوست تعلق کا محل

برف کی چھت ہے جو تو ریت کی دیوار ہوں میں

خون بر دوش ہوں میں زنگ رسیدہ تو نہیں

ہے مجھے فخر کہ ٹوٹی ہوئی تلوار ہوں میں

یہ جفاؤں کی سزا ہے کہ تماشائی ہے تو

یہ وفاؤں کی سزا ہے کہ پئے دار ہوں میں

ہاتھ پھیلا تو کسی سائے نے روکا حامدؔ

اس سے پوچھا تو کہا جذبۂ خود دار ہوں میں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have exhausted your 5 free content pages. Please Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے