ذکر جب ہوتا ہے اس پیکر رعنائی کا
ذکر جب ہوتا ہے اس پیکر رعنائی کا
یاد آ جاتا ہے چہرہ کسی ہرجائی کا
شاعری چیز ہے کیا یہ مرے دل سے پوچھو
شاعری نام نہیں قافیہ پیمائی کا
ایک وہ دور تھا جب غیر بھی کام آتے تھے
ایک یہ دور ہے بھائی بھی نہیں بھائی کا
اب بھی تنہائی میں دل چیر کے رکھ دیتا ہے
جب بھی آ جاتا ہے جھونکا کوئی پروائی کا
ہر برے کام کا انجام برا ہوتا ہے
کام جب کیجئے تو کیجئے اچھائی کا
کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے سچ ہے مگر
شعر کہتا ہے اثرؔ بھی بڑی گہرائی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.