یہ رسم و راہ مجھے اجنبی سی لگتی ہے
یہ رسم و راہ مجھے اجنبی سی لگتی ہے
تری نگاہ مجھے اجنبی سی لگتی ہے
مری حیات کی کرنیں ہیں جس کے ذروں میں
وہ شاہراہ مجھے اجنبی سی لگتی ہے
غم حیات کا یہ کون سا مقام آیا
کہ اپنی آہ مجھے اجنبی سی لگتی ہے
جہاں شعور تجلی نے آنکھ کھولی تھی
وہ جلوہ گاہ مجھے اجنبی سی لگتی ہے
تمہیں یقیں نہیں لیکن یہ صبح نو کی ضیا
خدا گواہ مجھے اجنبی سی لگتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.