رفتہ رفتہ خواہشیں بھی بے زباں ہوتی گئیں
رفتہ رفتہ خواہشیں بھی بے زباں ہوتی گئیں
تلخیاں جب وقت کے سچ کی عیاں ہوتی گئیں
چاند تاروں کی شعاعیں مہر تاباں دیکھ کر
آسماں کی وسعتوں میں خود نہاں ہوتی گئیں
میرے لفظوں پر خیالوں پر قلم پر ذہن کی
رفتہ رفتہ کچھ نہ کچھ پابندیاں ہوتی گئیں
رابطے ٹوٹے ہیں رشتے رہ گئے ہیں نام کے
تلخیاں حائل دلوں کے درمیاں ہوتی گئیں
یہ زمین و آسماں رازیؔ یہ دلکش کائنات
ایک نقطے سے ہزاروں کہکشاں ہوتی گئیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.