رات دن آسان ہوتے جا رہے ہیں
رات دن آسان ہوتے جا رہے ہیں
جب سے ہم انجان ہوتے جا رہے ہیں
سانس تھے ہم جان تھے ہم زندگی تھے
اب کدھر وہ دھیان ہوتے جا رہے ہیں
کیا گلہ اب کیجئے اک دوسرے سے
دل ہی بے ایمان ہوتے جا رہے ہیں
تم بھی اب وہ اپسرا سی کب رہی ہو
ہم بھی اب انسان ہوتے جا رہے ہیں
جس کو جو چاہے سمجھتا ہے سمجھ لے
اس قدر آسان ہوتے جا رہے ہیں
دیکھ ہم کو واپسی کے راستوں پر
راستے حیران ہوتے جا رہے ہیں
غم الم تنہائیاں وہ رت جگے سب
میرے بن ویران ہوتے جا رہے ہیں
ہم نے سوچا تھا بہت مشکل ہے جینا
خود بہ خود آسان ہوتے جا رہے ہیں
اس طرح آزاد ہیں اب سب فضائیں
قید خود زندان ہوتے جا رہے ہیں
ہم ترے بن آج یوں زندہ ہیں ابرکؔ
زندگی کی جان ہوتے جا رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.