مرا احساس مجھ کو بے خبر ہونے نہیں دیتا
مرا احساس مجھ کو بے خبر ہونے نہیں دیتا
کبھی تنہا مجھے یہ ہم سفر ہونے نہیں دیتا
کھٹکتی ہے جسے کانٹے کی صورت داستاں میری
وہی اس داستاں کو مختصر ہونے نہیں دیتا
چھپا کر غم کو ہونٹوں پر ہمارا یہ ہنسی لانا
ہمارے غم سے تم کو باخبر ہونے نہیں دیتا
صف اغیار میں شامل ہے اپنا ہی کوئی یارو
ہمارے وار کو جو کارگر ہونے نہیں دیتا
مخالف فصل کا تو باغباں ہرگز نہیں ماہرؔ
نئی شاخوں کو لیکن با ثمر ہونے نہیں دیتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.