کیسے کہہ دوں کہ بے قرار ہوں میں
کیسے کہہ دوں کہ بے قرار ہوں میں
خود سے لپٹی ہوئی بہار ہوں میں
مجھ سے وابستہ ہے دیار دل
عہد ماضی کی یادگار ہوں میں
وہ نہ ہوتا تو سرخ رو ہوتا
اس کے ہونے سے شرمسار ہوں میں
جو رفیق سفر سا لگتا ہے
راستے کا وہی غبار ہوں میں
ایک مدت سے ہوں میں ٹھہرا ہوا
دیکھنے میں تو آبشار ہوں میں
عشق ہوں غور سے مجھے دیکھو
جو نہ اترے وہی خمار ہوں میں
حالت دل ترے توسط سے
آب دیدہ ہوں اشک بار ہوں میں
خوش گمانی ہے اور کچھ بھی نہیں
کشور دل کا تاجدار ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.