Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کیسے کہہ دوں کہ بے قرار ہوں میں

نورین فیض آبادی

کیسے کہہ دوں کہ بے قرار ہوں میں

نورین فیض آبادی

MORE BYنورین فیض آبادی

    کیسے کہہ دوں کہ بے قرار ہوں میں

    خود سے لپٹی ہوئی بہار ہوں میں

    مجھ سے وابستہ ہے دیار دل

    عہد ماضی کی یادگار ہوں میں

    وہ نہ ہوتا تو سرخ رو ہوتا

    اس کے ہونے سے شرمسار ہوں میں

    جو رفیق سفر سا لگتا ہے

    راستے کا وہی غبار ہوں میں

    ایک مدت سے ہوں میں ٹھہرا ہوا

    دیکھنے میں تو آبشار ہوں میں

    عشق ہوں غور سے مجھے دیکھو

    جو نہ اترے وہی خمار ہوں میں

    حالت دل ترے توسط سے

    آب دیدہ ہوں اشک بار ہوں میں

    خوش گمانی ہے اور کچھ بھی نہیں

    کشور دل کا تاجدار ہوں میں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے