کف امکاں پہ خیالات کی لو میں گھل کر
کف امکاں پہ خیالات کی لو میں گھل کر
میں نیا رنگ بنا رنگ نمو میں گھل کر
یہ خلل کون و مکاں کو ہی بہا لے جاتا
میں بہک جاتا اگر سیل سبو میں گھل کر
میری تفہیم سے واضح ہوئے یہ ارض و سما
روشنی عکس ہوئی میرے لہو میں گھل کر
جیسے افلاک میں اجرام بناتے ہیں جگہ
تو بھی چمکا مرے افکار کی لو میں گھل کر
داد ہے اس کے فن بخیہ گری کو توحیدؔ
زخم ٹیٹو سا ہوا تار رفو میں گھل کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.