جس قدر فاصلے بڑھائے ہیں
جس قدر فاصلے بڑھائے ہیں
آپ اتنا ہی پاس آئے ہیں
قاصدو جان مانگ لو چاہے
گر خبر آپ ان کی لائے ہیں
ہم کو لکھتا کہ جا چلا جا تو
کیسے جائیں کہ تیرے سائے ہیں
ایک میں ہی نہیں مکیں اپنا
آپ مہمان بن بلائے ہیں
خاک کوئی حسیں نظر آئے
آپ جب آنکھ میں سمائے ہیں
آپ تو دے کے زخم بھول گئے
ہم نے مرہم وہ سب بنائے ہیں
عشق کے روگ نے ستایا تھا
اب طبیبوں کے ہم ستائے ہیں
آپ کو زندگی کہا ایسے
زندگی کو بھی ہم نہ بھائے ہیں
مانتا ہوں وفا نہیں لازم
خواب کیوں با وفا دکھائے ہیں
کون کافر کرے جفا ابرکؔ
وہ خیالوں میں مسکرائے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.