Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جس قدر فاصلے بڑھائے ہیں

اتباف ابرک

جس قدر فاصلے بڑھائے ہیں

اتباف ابرک

MORE BYاتباف ابرک

    جس قدر فاصلے بڑھائے ہیں

    آپ اتنا ہی پاس آئے ہیں

    قاصدو جان مانگ لو چاہے

    گر خبر آپ ان کی لائے ہیں

    ہم کو لکھتا کہ جا چلا جا تو

    کیسے جائیں کہ تیرے سائے ہیں

    ایک میں ہی نہیں مکیں اپنا

    آپ مہمان بن بلائے ہیں

    خاک کوئی حسیں نظر آئے

    آپ جب آنکھ میں سمائے ہیں

    آپ تو دے کے زخم بھول گئے

    ہم نے مرہم وہ سب بنائے ہیں

    عشق کے روگ نے ستایا تھا

    اب طبیبوں کے ہم ستائے ہیں

    آپ کو زندگی کہا ایسے

    زندگی کو بھی ہم نہ بھائے ہیں

    مانتا ہوں وفا نہیں لازم

    خواب کیوں با وفا دکھائے ہیں

    کون کافر کرے جفا ابرکؔ

    وہ خیالوں میں مسکرائے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے