ہر وقت زمانے پہ نظر رکھے ہوئے ہیں
ہر وقت زمانے پہ نظر رکھے ہوئے ہیں
کس حال میں ہیں دوست خبر رکھے ہوئے ہیں
راتوں کی سیاہی کا اثر کچھ نہیں ان پر
وہ لوگ جو آنکھوں میں سحر رکھے ہوئے ہیں
تحفے جو محبت میں کبھی تم سے ملے تھے
اب تک بڑی ترتیب سے گھر رکھے ہوئے ہیں
بیدار اگر ہو بھی گئے اٹھ نہ سکیں گے
ہم ایسے ہی اک زانو پہ سر رکھے ہوئے ہیں
مرجھائے ہوئے بیت گیا ایک زمانہ
وہ پھول کتابوں میں مگر رکھے ہوئے ہیں
ہم نے بھی کمائے ہیں محبت کے خزانے
جھولی میں ہماری بھی گہر رکھے ہوئے ہیں
دیدار کی خواہش میں ہر اک وقت ہی نجمیؔ
ہم اس کے دریچے پہ نظر رکھے ہوئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.