چھپا کر فلسفہ بھی اک پس تحریر رکھا ہے
چھپا کر فلسفہ بھی اک پس تحریر رکھا ہے
کمان فکر میں جب بھی سخن کا تیر رکھا ہے
سبھی خوابوں کی تعبیریں تو الٹی ہو نہیں سکتیں
تو پھر کیوں ذہن پر یہ خطرۂ تعبیر رکھا ہے
ملی ہے کامیابی تو ہنر سمجھا اسے ہم نے
فقط ناکامیوں کا نام ہی تقدیر رکھا ہے
وہ لکھتے وقت جس پر آنکھ سے آنسو بھی ٹپکے تھے
ترا وہ خط ابھی تک صورت تصویر رکھا ہے
نہ ہو مجھ پر یقیں تو دیکھ لے خود ہی کبھی آ کر
حفاظت سے کلیجے میں ترا ہر تیر رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.