چپہ چپہ کونا کونا شہر کا ہم نے چھانا ہے
چپہ چپہ کونا کونا شہر کا ہم نے چھانا ہے
وقت نے کروٹ بدلی اب ہر موڑ یہاں انجانا ہے
فانی ہے یہ مال یہ دولت یہ دنیا کی جھوٹی شان
یاد رکھو جب آئے قضا تو سب کچھ چھوڑ کے جانا ہے
نظریں غیر کی چیزوں پر ہیں ایمانوں کی خیر نہیں
فرق وہ شاید بھول گئے کیا اپنا کیا بیگانا ہے
دن کے اجلے پن میں شب کی تاریکی ہم بھول گئے
شور شرابہ کر کے تھک کر رات کو پھر سو جانا ہے
آج کتابیں دیکھیں ان کی اصل وہاں معلوم ہوئی
لفظوں کے سوداگر ہیں کچھ کرنا کچھ فرمانا ہے
رازیؔ کون خبر رکھتا ہے کس کو اس کا قرب ملا
کیا ہے قلندر کیا صوفی کیا زاہد کیا دیوانہ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.