بچاؤ کے چلن بے کار ہوتے جا رہے ہیں
بچاؤ کے چلن بے کار ہوتے جا رہے ہیں
یہ سب منظر لہو آثار ہوتے جا رہے ہیں
وہ اپنے ہاتھ سے خود زلف کو سہلا رہا ہے
ہم اس کو دیکھ کر سرشار ہوتے جا رہے ہیں
شرارت اس کی آنکھوں میں جھلکنے لگ گئی ہے
ہمارے خواب بھی بیدار ہوتے جا رہے ہیں
گھٹن اتنی کشادہ شہر میں پھیلی ہوئی ہے
بدن اب بوجھ اور آزار ہوتے جا رہے ہیں
کہیں جانے کی باتیں وہ کسی سے کر رہا ہے
یہاں ہم در سے پھر دیوار ہوتے جا رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.