Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بچاؤ کے چلن بے کار ہوتے جا رہے ہیں

محمد اسلم رضا خواجہ

بچاؤ کے چلن بے کار ہوتے جا رہے ہیں

محمد اسلم رضا خواجہ

MORE BYمحمد اسلم رضا خواجہ

    بچاؤ کے چلن بے کار ہوتے جا رہے ہیں

    یہ سب منظر لہو آثار ہوتے جا رہے ہیں

    وہ اپنے ہاتھ سے خود زلف کو سہلا رہا ہے

    ہم اس کو دیکھ کر سرشار ہوتے جا رہے ہیں

    شرارت اس کی آنکھوں میں جھلکنے لگ گئی ہے

    ہمارے خواب بھی بیدار ہوتے جا رہے ہیں

    گھٹن اتنی کشادہ شہر میں پھیلی ہوئی ہے

    بدن اب بوجھ اور آزار ہوتے جا رہے ہیں

    کہیں جانے کی باتیں وہ کسی سے کر رہا ہے

    یہاں ہم در سے پھر دیوار ہوتے جا رہے ہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے