آزاد ہو چکے تھے غم دو جہاں سے ہم
آزاد ہو چکے تھے غم دو جہاں سے ہم
دیکھو تمہاری یاد میں لوٹے کہاں سے ہم
یاں بھی اسیر شدت احساس ہی رہے
صحن حرم میں آئے تھے ارض بتاں سے ہم
ہر تیز رو کو شوق قیادت ہے آج کل
کھوئے گئے ہیں کشمکش رہبراں سے ہم
تخریب گلستاں میں برابر کے تھے شریک
بے وجہ بد گماں ہوئے دور خزاں سے ہم
منزل ملی تو شوق طلب اور بڑھ گیا
منزل پہ آ کے دور ہوئے کارواں سے ہم
تھی اک متاع ہوش سو اب وہ بھی لٹ چکی
اب کیا ہے جو سوال کریں پاسباں سے ہم
اب انتظار موسم گل بھی نہیں فضاؔ
مانوس ہو چکے ہیں یہاں تک خزاں سے ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.