Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ببول دشت میں تھی کوہ پر صنوبر تھے

احمد ندیم قاسمی

ببول دشت میں تھی کوہ پر صنوبر تھے

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    ببول دشت میں تھی کوہ پر صنوبر تھے

    یہ تیرے عدل کے ماتھے پہ کیسے زیور تھے

    الٰہی کس کے اشارے سے مجھ پہ ٹوٹ پڑے

    وہ بے لگام عناصر جو میرے چاکر تھے

    ہوا چلی تو قیامت گھٹا اٹھی تو بلا

    یہ خاص قسم کے احساں ترے مجھی پر تھے

    گرفت آب میں ہیں جن کی میتوں کے ہجوم

    یہ آدمی ترے تاج شہی کے گوہر تھے

    یہ رزق بانٹتے تھے اس بھری خدائی میں

    بہت غریب مگر کتنے بندہ پرور تھے

    رواں دواں تھے مرے کھیت سطح دریا پر

    عجیب فصل اگی تھی عجیب منظر تھے

    اٹی ہوئی ہے جو ملبے سے اس زمیں پہ کبھی

    گھنے درخت تھے اور گونجتے ہوئے گھر تھے

    میں شہر نغمہ و نے میں پلٹ کے جب آیا

    کراہتی تھیں چھتیں اور سینہ زن در تھے

    سزا ملی یہ ثمر ور درخت بننے کی

    کہ عمر بھر مری قسمت میں صرف پتھر تھے

    عجیب شان سے نکلا تھا دوستوں کا جلوس

    کہ پھول ہاتھ میں اور آستیں میں خنجر تھے

    فلک کی طرح بدلتی ہے رنگ دھرتی بھی

    سنا ہے اب جو ہیں صحرا کبھی سمندر تھے

    میں جن کو چن کے اب اک آشیاں بناؤں گا

    کبھی یہی خس و خاشاک میرے شہپر تھے

    ندیمؔ موسم باراں تو قتل عام سا تھا

    کہ دست ابر میں بوندیں نہیں تھیں نشتر تھے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے