ببول دشت میں تھی کوہ پر صنوبر تھے
ببول دشت میں تھی کوہ پر صنوبر تھے
یہ تیرے عدل کے ماتھے پہ کیسے زیور تھے
الٰہی کس کے اشارے سے مجھ پہ ٹوٹ پڑے
وہ بے لگام عناصر جو میرے چاکر تھے
ہوا چلی تو قیامت گھٹا اٹھی تو بلا
یہ خاص قسم کے احساں ترے مجھی پر تھے
گرفت آب میں ہیں جن کی میتوں کے ہجوم
یہ آدمی ترے تاج شہی کے گوہر تھے
یہ رزق بانٹتے تھے اس بھری خدائی میں
بہت غریب مگر کتنے بندہ پرور تھے
رواں دواں تھے مرے کھیت سطح دریا پر
عجیب فصل اگی تھی عجیب منظر تھے
اٹی ہوئی ہے جو ملبے سے اس زمیں پہ کبھی
گھنے درخت تھے اور گونجتے ہوئے گھر تھے
میں شہر نغمہ و نے میں پلٹ کے جب آیا
کراہتی تھیں چھتیں اور سینہ زن در تھے
سزا ملی یہ ثمر ور درخت بننے کی
کہ عمر بھر مری قسمت میں صرف پتھر تھے
عجیب شان سے نکلا تھا دوستوں کا جلوس
کہ پھول ہاتھ میں اور آستیں میں خنجر تھے
فلک کی طرح بدلتی ہے رنگ دھرتی بھی
سنا ہے اب جو ہیں صحرا کبھی سمندر تھے
میں جن کو چن کے اب اک آشیاں بناؤں گا
کبھی یہی خس و خاشاک میرے شہپر تھے
ندیمؔ موسم باراں تو قتل عام سا تھا
کہ دست ابر میں بوندیں نہیں تھیں نشتر تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.