کب اس کو گرانے پہ ہے اصرار ہمارا
کب اس کو گرانے پہ ہے اصرار ہمارا
دیوار نہیں جانتی معیار ہمارا
دشمن ہے تعاقب میں کہاں خود کو چھپائیں
ہے غار ہماری نہ کوئی یار ہمارا
اس واسطے خاموش ہی رہتے ہیں جواباً
جائے گا کہاں سن کے وہ انکار ہمارا
اشیائے ضرورت بھی نہیں لیتا کوئی اب
سنسان پڑا رہتا ہے بازار ہمارا
آواز تو مانوس سی آتی ہے وہاں سے
اب یاد نہیں کون ہے اس پار ہمارا
افسوس کوئی آج بھی ملنے نہیں آیا
بے کار گزر جائے گا اتوار ہمارا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.