تبھی تو سوچتا ہوں خوش نصیب دنیا ہے
تبھی تو سوچتا ہوں خوش نصیب دنیا ہے
میں تجھ سے دور ہوں تیرے قریب دنیا ہے
نہ کوئی در نہ دریچہ نہ کوئی جگنو چراغ
ہماری سوچ سے بڑھ کر مہیب دنیا ہے
بسے بسائے کو برباد کر کے چھوڑتی ہے
خیال رکھنا یہ دنیا عجیب دنیا ہے
میں اس لیے بھی پلٹ آیا تیری بستی سے
تری گلی میں دماغی غریب دنیا ہے
کسی سے بات کرو تو یہ سوچ کر کرنا
تمہاری سوچ سے بڑھ کر خطیب دنیا ہے
وہ پل صراط کا ہونا بھی ہے حقیقت پر
یہاں بلالؔ کہ مثل صلیب دنیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.