باتوں باتوں میں دنیا پر دھیان ہمارا جا سکتا ہے
باتوں باتوں میں دنیا پر دھیان ہمارا جا سکتا ہے
یعنی تیرے پہلو میں بھی ہجر گزارا جا سکتا ہے
خوشبو میں رس گھول رہا ہوں رنگوں اور آوازوں کا
اس احساس کو چھو کر لوگو خواب سنوارا جا سکتا ہے
دیکھ رہا ہوں بیتے منظر ایک سمے کی کھڑکی سے
یوں لگتا ہے ان لمحوں کو آج پکارا جا سکتا ہے
جبر و قدر کا ساحل ہے یہ لنگر بس تیار رہے
تھوڑی سی تاخیر ہوئی تو دور کنارہ جا سکتا ہے
دل موسم افسردہ ہو جب خاموشی ہی بہتر ہے
بات کرو تو مایوسی کی سمت اشارہ جا سکتا ہے
لاکھ اٹھانے پر بھی ہم سے دل کا بوجھ نہیں اٹھ پاتا
ہم سمجھے تھے ہر مشکل کو آپ سہارا جا سکتا ہے
ذرہ ذرہ دیکھ ہی لیں گے بھید بھری دنیاؤں کا ہم
سیارے کی آنکھ سے اب تو عکس اتارا جا سکتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.