Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

باتوں باتوں میں دنیا پر دھیان ہمارا جا سکتا ہے

سلمان ثروت

باتوں باتوں میں دنیا پر دھیان ہمارا جا سکتا ہے

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    باتوں باتوں میں دنیا پر دھیان ہمارا جا سکتا ہے

    یعنی تیرے پہلو میں بھی ہجر گزارا جا سکتا ہے

    خوشبو میں رس گھول رہا ہوں رنگوں اور آوازوں کا

    اس احساس کو چھو کر لوگو خواب سنوارا جا سکتا ہے

    دیکھ رہا ہوں بیتے منظر ایک سمے کی کھڑکی سے

    یوں لگتا ہے ان لمحوں کو آج پکارا جا سکتا ہے

    جبر و قدر کا ساحل ہے یہ لنگر بس تیار رہے

    تھوڑی سی تاخیر ہوئی تو دور کنارہ جا سکتا ہے

    دل موسم افسردہ ہو جب خاموشی ہی بہتر ہے

    بات کرو تو مایوسی کی سمت اشارہ جا سکتا ہے

    لاکھ اٹھانے پر بھی ہم سے دل کا بوجھ نہیں اٹھ پاتا

    ہم سمجھے تھے ہر مشکل کو آپ سہارا جا سکتا ہے

    ذرہ ذرہ دیکھ ہی لیں گے بھید بھری دنیاؤں کا ہم

    سیارے کی آنکھ سے اب تو عکس اتارا جا سکتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے