Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دعا کو ہاتھ مرا جب کبھی اٹھا ہوگا

عبد الحفیظ نعیمی

دعا کو ہاتھ مرا جب کبھی اٹھا ہوگا

عبد الحفیظ نعیمی

دعا کو ہاتھ مرا جب کبھی اٹھا ہوگا

قضاوقدر کا چہرہ اتر گیا ہوگا

جو اپنے ہاتھوں لٹے ہیں بس اس پہ زندہ ہیں

خدا کچھ ان کے لیے بھی تو سوچتا ہوگا

تری گلی میں کوئی سایہ رات بھر اب بھی

سراغ جنت گم گشتہ ڈھونڈتا ہوگا

جو غم کی آنچ میں پگھلا کیا اور آہ نہ کی

وہ آدمی تو نہیں کوئی دیوتا ہوگا

تمہارے سنگ تغافل کا کیوں کریں شکوہ

اس آئنے کا مقدر ہی ٹوٹنا ہوگا

ہے میرے قتل کی شاہد وہ آستیں بھی مگر

میں کس کا نام لوں سو بار سوچنا ہوگا

یہ میری پیاس کے ساغر تیرے لبوں کی شراب

رواج و رسم محبت کا معجزہ ہوگا

پھرآرزو کےکھنڈر رنگ و بو میں ڈوب چلے

فریب خوردہ کوئی خواب دیکھتا ہوگا

ستارےبھی تری یادوں کے بجھتے جاتے ہیں ہیں

غم حیات کا سورج نکل رہا ہوگا

صدا کسے دیں نعیمیؔ کسے دکھائیں زخم

اب اتنی رات گئے کون جاگتا ہوگا

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے