جام کی ہے نہ یہ سبو کی ہے
جام کی ہے نہ یہ سبو کی ہے
یہ مہک تو مرے لہو کی ہے
انگلیاں میری خون رونے لگیں
زندگی اس قدر رفو کی ہے
یہ جو نورانیت ہے چہرے پر
یہ کرامت مرے وضو کی ہے
اپنے پروردگار سے میں نے
دیر تک رات گفتگو کی ہے
خود سے سمجھوتہ اب نہیں ہوگا
بات اب میری آبرو کی ہے
بارگاہ خدا میں اے نجمیؔ
جب دعا کی ہے با وضو کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.