فریاد کر رہے ہیں ہر اک آشنا سے آپ
فریاد کر رہے ہیں ہر اک آشنا سے آپ
پر مانگتے نہیں کبھی اپنے خدا سے آپ
گر ہو خطا ہماری سزا دیں ہمیں مگر
محروم تو نہ کیجیے اپنی دعا سے آپ
گر اعتبار آپ کو مجھ پہ نہیں ذرا
پھر پوچھیں حال میرا سکوت فزا سے آپ
اک فون اور بس یہ رہائی ہوئی تمام
کیوں خوف کھا رہے ہیں یوں وقتی سزا سے آپ
ہر بات کی خبر ہے ہر اک چیز کا پتہ
شاید بہت قریب ہیں باد صبا سے آپ
ٹھوکر لگی تھی راہ میں جس شخص کے سبب
بہتر ہے کچھ تو دور ہیں اس رہنما سے آپ
مشتاقؔ جیت جائے نہ اک بار پھر انا
ناراض ہم بھی ہیں ذرا اور کچھ خفا سے آپ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.