دست طلب دعا میں اٹھائے ہوئے رہو
دست طلب دعا میں اٹھائے ہوئے رہو
رحمت سے اس کی آس لگائے ہوئے رہو
کیف نشاط حسن کا مرکز یہی تو ہے
ساقی سے اپنی آنکھ ملائے ہوئے رہو
ملتی کہاں ہے اشک ندامت کی آبرو
دامن میں اس کو اپنے چھپائے ہوئے رہو
اس سر کا اعتبار نہیں کب کہاں جھکے
اس سنگ آستاں پہ جھکائے ہوئے رہو
ہندیؔ بہ فیض جذبۂ عرفان و آگہی
کونین کی نظر میں سمائے ہوئے رہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.