Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بھر دو جہاں میں اپنی وفاؤں کی آب و تاب

ابراہیم آتش

بھر دو جہاں میں اپنی وفاؤں کی آب و تاب

ابراہیم آتش

MORE BYابراہیم آتش

    بھر دو جہاں میں اپنی وفاؤں کی آب و تاب

    مٹ جائے تاکہ نقلی خداؤں کی آب و تاب

    دل کو اگر بنا لیں محبت کا آئنہ

    مٹ جائے گی جہاں سے جفاؤں کی آب و تاب

    ہم لوگ بھول جائیں اگر اپنے اختلاف

    ہوگی جہاں سے ختم بلاؤں کی آب و تاب

    رکھنا ہے گر رواں دواں انسان کا دماغ

    قائم رہے ہمیشہ صداؤں کی آب و تاب

    یہ ہے طبیب وقت کا اس دور میں کمال

    ہے سود مند آج دواؤں کی آب و تاب

    تابندہ یہ رہی ہے رہے گی تمام عمر

    معدوم کب رہی ہے دعاؤں کی آب و تاب

    اب فرد سادہ لوح کا جینا محال ہے

    آتشؔ عروج پر ہے اداؤں کی آب و تاب

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے