بھر دو جہاں میں اپنی وفاؤں کی آب و تاب
بھر دو جہاں میں اپنی وفاؤں کی آب و تاب
مٹ جائے تاکہ نقلی خداؤں کی آب و تاب
دل کو اگر بنا لیں محبت کا آئنہ
مٹ جائے گی جہاں سے جفاؤں کی آب و تاب
ہم لوگ بھول جائیں اگر اپنے اختلاف
ہوگی جہاں سے ختم بلاؤں کی آب و تاب
رکھنا ہے گر رواں دواں انسان کا دماغ
قائم رہے ہمیشہ صداؤں کی آب و تاب
یہ ہے طبیب وقت کا اس دور میں کمال
ہے سود مند آج دواؤں کی آب و تاب
تابندہ یہ رہی ہے رہے گی تمام عمر
معدوم کب رہی ہے دعاؤں کی آب و تاب
اب فرد سادہ لوح کا جینا محال ہے
آتشؔ عروج پر ہے اداؤں کی آب و تاب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.