برس رہا ہے جو پانی سیہ گھٹاؤں سے
برس رہا ہے جو پانی سیہ گھٹاؤں سے
بچایا اس نے ہی تپتی ہوئی فضاؤں سے
یہ فعل آپؐ کو لے جائے گا بلندی پر
عدو کو دوست بنا لیجیے وفاؤں سے
خدا خدا ہے کرے گا مدد یقیناً وہ
بس آپ خوف نہ کھائیں کبھی بلاؤں سے
کوئی خدا نہیں آدم ہے خاک کا پتلا
کہاں بچا ہے کوئی آدمی خطاؤں سے
جو کر رہے ہیں غریبوں پہ ظلم و جور و ستم
خدا بچائے انہیں ان کی بد دعاؤں سے
رہیں جو کوششیں جاری تو دیکھنا آتشؔ
نیا جہان ملے گا انہیں خلاؤں سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.