Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

برس رہا ہے جو پانی سیہ گھٹاؤں سے

ابراہیم آتش

برس رہا ہے جو پانی سیہ گھٹاؤں سے

ابراہیم آتش

MORE BYابراہیم آتش

    برس رہا ہے جو پانی سیہ گھٹاؤں سے

    بچایا اس نے ہی تپتی ہوئی فضاؤں سے

    یہ فعل آپؐ کو لے جائے گا بلندی پر

    عدو کو دوست بنا لیجیے وفاؤں سے

    خدا خدا ہے کرے گا مدد یقیناً وہ

    بس آپ خوف نہ کھائیں کبھی بلاؤں سے

    کوئی خدا نہیں آدم ہے خاک کا پتلا

    کہاں بچا ہے کوئی آدمی خطاؤں سے

    جو کر رہے ہیں غریبوں پہ ظلم و جور و ستم

    خدا بچائے انہیں ان کی بد دعاؤں سے

    رہیں جو کوششیں جاری تو دیکھنا آتشؔ

    نیا جہان ملے گا انہیں خلاؤں سے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے