یاروں نے اپنے اپنے گھروں کو بسا لیا
یاروں نے اپنے اپنے گھروں کو بسا لیا
اک تم کہ اپنی ذات کو زنداں بنا لیا
گمراہ تو ہوئے تھے مگر خود کو پا لیا
اپنے ہی آئنے سے تمہارا پتہ لیا
ان ناتوانیوں پہ بھی تھے اتنے خود نگر
یہ زندگی کا کوہ گراں بھی اٹھا لیا
آنکھوں سے موتیوں کا ہے تانتا بندھا ہوا
ڈوبے ہیں اس طرح کہ سمندر چرا لیا
بس اک شعور راہ نوردی تھا آس پاس
کیا کیا نہ راستوں میں لٹیروں نے آ لیا
ڈوبے ہیں ہم تو بیچ بھنور میں مگر بتا
ساحل پہ جا کے تو نے بھی کیا ناخدا لیا
خود بھی تو امتحان وفا سے گزر کے دیکھ
تو نے تو لاکھ بار ہمیں آزما لیا
اس دور بے ہنر میں ہیں دونوں گرفتہ دل
کیا دے سکے ہیں ہم بھی تمہیں اور کیا لیا
ہم نے تو چاہتوں کے خزانے لٹا دیے
دنیا نے پتھروں کو گلے سے لگا لیا
معیار دوستی ہے کہ بازار دوستی
سودا محبتوں کا کیا راستا لیا
آگے نکل گئے تھے بہت ہم سفر جمیلؔ
ہم نے بھی منزلوں پہ مگر ان کو جا لیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.