تجھ کو چاہت کی قسم یوں نہ بھلانا مجھ کو
تجھ کو چاہت کی قسم یوں نہ بھلانا مجھ کو
اپنی یادوں کے گلستاں میں سجانا مجھ کو
عمر بھر ساتھ نبھانے کے کیے ہیں وعدے
اب جدا ہو کے کہیں چھوڑ نہ جانا مجھ کو
واسطہ رب کا تجھے یوں بھی نہ نفرت کرنا
بس محبت سے ذرا دل میں بسانا مجھ کو
تجھ سے حالات کے پتھر نہ سہے جائیں گے
اپنے احساس کا آئینہ بنانا مجھ کو
تو نے بخشے ہیں یہ شہرت کے جزیرے بے شک
اب تکبر کے بھی دلدل سے بچانا مجھ کو
بے ثمر ہی سہی آنگن کا شجر ہوں تیرے
گر میں سایہ بھی نہ دے پاؤں گرانا مجھ کو
دشمنی یوں تو سبھی لوگ کیا کرتے ہیں
تو پڑوسی ہے مرا دوست بنانا مجھ کو
اب امیری کا نشہ ہے تو رکھو دور مجھے
جب غریبی تمہیں گھیرے تو بلانا مجھ کو
گر ہوں کانٹا تو کسی آگ میں رکھ دینا حبیبؔ
اور پتھر ہوں تو رستے سے ہٹانا مجھ کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.