پہچان دوستوں کی ہے مشکل بہت یہاں
پہچان دوستوں کی ہے مشکل بہت یہاں
ہیں مہرباں کے روپ میں قاتل بہت یہاں
اس شہر کی ہے چشم کرم ہم پہ بے طرح
تحفے ہوئے ہیں زخم کے حاصل بہت یہاں
بن کے رفیق پھینک جو دیتے ہیں موج میں
ہیں اس نئے مزاج کے ساحل بہت یہاں
تہذیب کی نگاہ کو کر دیں جو شرمسار
منظر ہیں ایسے دید کے قابل بہت یہاں
اک شخص با وقار وفا کی ہے راہ میں
ہیں گرچہ امتحاں کی منازل بہت یہاں
اعجازؔ اپنا رنگ تغزل ہے منفرد
دل کا لہو ہے شعر میں شامل بہت یہاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.