دوست رکھتے ہیں جواں مرد اہل جوہر یار کو
دوست رکھتے ہیں جواں مرد اہل جوہر یار کو
تول کر زر سے سپاہی لیتے ہیں تلوار کو
سنگریزے کیا خدا دیتا نہ اس کو باغ میں
کبک نے رزاق سمجھا ہے مگر کہسار کو
پردۂ دل سے نکلنا نالے کا یاد آ گیا
خوب رویا سن کے میں آواز موسیقار کو
یاد صحرا نے یہ زنداں میں رلایا مجھ کو خوں
گل سا رنگیں کر دیا زنجیر کے ہر خار کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.