دل مرا بے قرار اب بھی ہے
دل مرا بے قرار اب بھی ہے
چاند کا انتظار اب بھی ہے
عشق سر پر سوار کل بھی تھا
عاشقی کا خمار اب بھی ہے
کیا کروں ذکر دوستوں کا میں
پشت پہ ایک وار اب بھی ہے
جس کو سن کر وہ لوٹ آئے تھے
شعر وہ شاہکار اب بھی ہے
اس کے بارے میں کچھ نہیں کہنا
وہ مرا غم گسار اب بھی ہے
چاہے کتنا ہو تیرا نام اونچا
ظالموں میں شمار اب بھی ہے
دشمنی کھل کے کیوں نہیں کرتے
دوستی داغدار اب بھی ہے
ایک مدت سے دید کا مشتاقؔ
یہ ترا خاکسار اب بھی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.