بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھاتا ہوں میرے دوست
بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھاتا ہوں میرے دوست
میں کاروبار دشت چلاتا ہوں میرے دوست
لفظوں سے کھیلتا ہوں خیالوں کی بھیڑ میں
شاعر ہوں اور شعر سناتا ہوں میرے دوست
اپنی خوشی سے زہر تو پیتا نہیں کوئی
مجبور ہوں سو تجھ سے نبھاتا ہوں میرے دوست
کوئی بھی شخص بات مری مانتا نہیں
جس کو بھی تیرے بارے بتاتا ہوں میرے دوست
وہ دن کہاں کہ اس سے ملاقات ہو مری
تصویر ہی سے کام چلاتا ہوں میرے دوست
ہر روز ایک بات کھٹکتی ہے ذہن میں
ہر روز ایک بات بھلاتا ہوں میرے دوست
دکھ یہ ہے سال سال میں آتا ہے ایک خواب
اور جاگتے ہی بھول بھی جاتا ہوں میرے دوست
روزانہ کوئی وقت کا کرتا ہے احترام
روزانہ میں ہی دیر سے آتا ہوں میرے دوست
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.