نہ کلائی رہی نہ کنگن ہے
نہ کلائی رہی نہ کنگن ہے
پھر بھی بازو اسی کا روشن ہے
کتنا بے بس ہے آنکھ کا پانی
کتنی محدود دل کی دھڑکن ہے
کوئی الہام ہو نہ ہو لیکن
خواب کا سلسلہ یقینا ہے
اس کے لہجے میں چاشنی ہے بہت
اس کی باتوں میں اک نیا پن ہے
میرے پہلو میں رو رہی ہے مگر
میرے دل میں عجیب الجھن ہے
اس کی آنکھوں میں قید ہیں منظر
میرے سینے میں ایک روزن ہے
شہر آباد ہو گیا باسطؔ
گاؤں مایوسیوں بھرا بن ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.