ہمارے عشق کا یہ سلسلہ نرالا ہے
ہمارے عشق کا یہ سلسلہ نرالا ہے
یہاں چراغ جلا اور وہاں اجالا ہے
تمہارے بعد تو یہ دل بھی دل نہیں لگتا
نہ جانے ہم نے یہ سینے میں کیا سنبھالا ہے
نہ اب کے نیند نہ ان آنکھوں میں ہے کوئی خواب
نہ جانے کون سے یہ جرم کا ازالہ ہے
پھر اس کے بعد کہیں کا نہیں رہا ہوں میں
یہ اس نے دل سے مجھے کس طرح نکالا ہے
بھلے سے جتنی بھی چاہے ہم احتیاط کریں
وہی تو ہونا ہے عاطفؔ جو ہونے والا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.