ہر شہر جل رہا ہے کدھر جائے گا دھواں
ہر شہر جل رہا ہے کدھر جائے گا دھواں
اپنی گھٹن میں گھٹ کے ہی مر جائے گا دھواں
مذہب کے نام پر جو لگاؤ گے آگ تم
سینے میں ہر کسی کے اتر جائے گا دھواں
مانگو دعائیں تیز ہوا اب کے چل پڑے
ورنہ بھلا یہ کیسے بکھر جائے گا دھواں
کچھ دیر سائے میں تو رہے گا ہمارا شہر
اپنے سروں سے جب بھی گزر جائے گا دھواں
کہہ دے کوئی ہواؤں سے چھیڑے نہ شمع کو
گر بجھ گئی تو لے کے خبر جائے گا دھواں
سانسوں میں ہے گھٹن سی سبھی سوچنے لگے
آیا کدھر سے اور کدھر جائے گا دھواں
لکھو گے کیا حبیبؔ بتاؤ نئی غزل
کاغذ سیاہ کر کے اگر جائے گا دھواں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.