Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر شہر جل رہا ہے کدھر جائے گا دھواں

حبیب ندیم

ہر شہر جل رہا ہے کدھر جائے گا دھواں

حبیب ندیم

MORE BYحبیب ندیم

    ہر شہر جل رہا ہے کدھر جائے گا دھواں

    اپنی گھٹن میں گھٹ کے ہی مر جائے گا دھواں

    مذہب کے نام پر جو لگاؤ گے آگ تم

    سینے میں ہر کسی کے اتر جائے گا دھواں

    مانگو دعائیں تیز ہوا اب کے چل پڑے

    ورنہ بھلا یہ کیسے بکھر جائے گا دھواں

    کچھ دیر سائے میں تو رہے گا ہمارا شہر

    اپنے سروں سے جب بھی گزر جائے گا دھواں

    کہہ دے کوئی ہواؤں سے چھیڑے نہ شمع کو

    گر بجھ گئی تو لے کے خبر جائے گا دھواں

    سانسوں میں ہے گھٹن سی سبھی سوچنے لگے

    آیا کدھر سے اور کدھر جائے گا دھواں

    لکھو گے کیا حبیبؔ بتاؤ نئی غزل

    کاغذ سیاہ کر کے اگر جائے گا دھواں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے