Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جنگل کے اس طرف نہ پری ہے نہ حور ہے

باسط پتافی

جنگل کے اس طرف نہ پری ہے نہ حور ہے

باسط پتافی

MORE BYباسط پتافی

    جنگل کے اس طرف نہ پری ہے نہ حور ہے

    کوئی نہ کوئی ذات مگر بالضرور ہے

    یہ کیسی تیز دھوپ ہے بستی کے اس طرف

    ہر کوئی اپنے سائے سے کیوں دور دور ہے

    یہ کیا کہ سب نے پی ہی لیے گھونٹ صبر کے

    اچھا ہے میرا پنچھی ابھی ناصبور ہے

    پھر اس کے پور پور سے رسنے لگا لہو

    سینے میں میرا آئنہ پھر چور چور ہے

    سرسوں کے ایک کھیت پہ کالی گھٹا کا بوجھ

    اک چشم آبنوس کے اندر ہی نور ہے

    باسطؔ وہ صرف آنکھ کی پتلی کا کھیل تھا

    موسیٰ وہی ہے اور وہی کوہ طور ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے