جنگل کے اس طرف نہ پری ہے نہ حور ہے
جنگل کے اس طرف نہ پری ہے نہ حور ہے
کوئی نہ کوئی ذات مگر بالضرور ہے
یہ کیسی تیز دھوپ ہے بستی کے اس طرف
ہر کوئی اپنے سائے سے کیوں دور دور ہے
یہ کیا کہ سب نے پی ہی لیے گھونٹ صبر کے
اچھا ہے میرا پنچھی ابھی ناصبور ہے
پھر اس کے پور پور سے رسنے لگا لہو
سینے میں میرا آئنہ پھر چور چور ہے
سرسوں کے ایک کھیت پہ کالی گھٹا کا بوجھ
اک چشم آبنوس کے اندر ہی نور ہے
باسطؔ وہ صرف آنکھ کی پتلی کا کھیل تھا
موسیٰ وہی ہے اور وہی کوہ طور ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.