اگرچہ سائے کا ہم سر نہیں ہوں
اگرچہ سائے کا ہم سر نہیں ہوں
سخن مشتاق ہوں کم تر نہیں ہوں
مجھے دھوکہ دیا بھائی نے میرے
میں گھر میں ہوں مگر گھر پر نہیں ہوں
مرے اپنے ہوئے ہیں دور مجھ سے
اکیلا ہوں ابھی لشکر نہیں ہوں
وہی عادت مری سچ بولنے کی
کسی بھی آنکھ میں بہتر نہیں ہوں
وہ یادیں دل سے رخصت ہو رہی ہیں
میں تیرے دھیان کا محور نہیں ہوں
کما لوں گا میں اتنی روزی روٹی
زمین خشک ہوں بنجر نہیں ہوں
یہ میرا عشق عشق جاودانی
میں مٹی ہوں کوئی امبر نہیں ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.