لذتوں کے درمیاں خوف و خطر اچھا لگا
لذتوں کے درمیاں خوف و خطر اچھا لگا
پیار کے اس کھیل میں وہ بے ہنر اچھا لگا
جادہ و منزل نہ تھے حیرانیوں کے تھے پڑاؤ
بس بھٹکنے کے لیے تھا اک سفر اچھا لگا
جگمگاتے شہر کی دیوانگی کے درمیاں
صوفیوں کی بے نیازی سا کھنڈر اچھا لگا
بد سلیقہ لاابالی باؤلا پھکڑ مزاج
اب اسے جو چاہے کہہ لیں وہ مگر اچھا لگا
میری عرض شوق پر بولا وہ بھولے پن سے یوں
پھر کریں گے کیا ہمیں سب کچھ اگر اچھا لگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.