بے سبب عام نہیں بات یہ جانا دل کا
بے سبب عام نہیں بات یہ جانا دل کا
کچھ تو ہے راز بدل دے جو ٹھکانا دل کا
آپ رکتے ذرا کھلتا یہ فسانہ دل کا
کس نے لوٹا ہے خزانوں سے خزانہ دل کا
اس طرف دیکھ کے خود کو ہی جلانا دل کا
یاد آتا ہے مجھے دور پرانا دل کا
آپ گر ہوں نہ تو ہوتا نہیں دل کا کوئی
آپ ہوتے ہیں تو ہوتا ہے زمانہ دل کا
واہ کیا داد میں دوں بس کہ پلک جھپکی تھی
کیسے ممکن ہوا اتنے میں چرانا دل کا
یوں کہ دیوانگی دیکھے تو بتائے کوئی
دیکھ کر ان کو وہ بس شور مچانا دل کا
آپ رکئے ذرا دکھنے کو عجب منظر ہے
ان کی یادوں کے نشانات مٹانا دل کا
حسن والوں سے گزارش ہے کہ رخصت دے دیں
آپ کی یاد سے بہتر ہے کھپانا دل کا
حسن والوں کو فقط آتا ہے قابو کرنا
کتنا مشکل ہے نہ جانیں یہ کمانا دل کا
چارہ گر اب ترے نسخے ہوئے ناقص کیونکر
اچھا خاصا تمہیں آتا تھا دکھانا دل کا
رخ شفاف دکھایا جو شرارت سوجھی
پھر نہ ممکن ہوا پہلو میں سمانا دل کا
آنکھ سے آنکھ ملائی تو گیا ہاتھوں سے
کتنا آساں رہا ہم کو یہ گنوانا دل کا
ایک دو اور بھی گر ہوتے تو بچتے کیوں کر
تھا مجھے خود ہی یہ منظور لٹانا دل کا
ایک ہی دل تھا گیا ہاتھ سے میرے وہ بھی
باندھ کر بیٹھے ہو کیوں اب بھی نشانا دل کا
دل کو منظور نہیں راہ جہاں پر چلنا
منفرد ہوتا ہے سب ہی سے ترانا دل کا
آ کے دیکھے مجھے جس کو بھی ہو شبہہ کوئی
کون کہتا ہے کہ آساں ہے بچانا دل کا
ان کی یادوں میں نہ باقی رہی شدت شاید
ارسلانؔ آج کہا تم نے نہ مانا دل کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.