Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بے سبب عام نہیں بات یہ جانا دل کا

ارسلان فارس

بے سبب عام نہیں بات یہ جانا دل کا

ارسلان فارس

MORE BYارسلان فارس

    بے سبب عام نہیں بات یہ جانا دل کا

    کچھ تو ہے راز بدل دے جو ٹھکانا دل کا

    آپ رکتے ذرا کھلتا یہ فسانہ دل کا

    کس نے لوٹا ہے خزانوں سے خزانہ دل کا

    اس طرف دیکھ کے خود کو ہی جلانا دل کا

    یاد آتا ہے مجھے دور پرانا دل کا

    آپ گر ہوں نہ تو ہوتا نہیں دل کا کوئی

    آپ ہوتے ہیں تو ہوتا ہے زمانہ دل کا

    واہ کیا داد میں دوں بس کہ پلک جھپکی تھی

    کیسے ممکن ہوا اتنے میں چرانا دل کا

    یوں کہ دیوانگی دیکھے تو بتائے کوئی

    دیکھ کر ان کو وہ بس شور مچانا دل کا

    آپ رکئے ذرا دکھنے کو عجب منظر ہے

    ان کی یادوں کے نشانات مٹانا دل کا

    حسن والوں سے گزارش ہے کہ رخصت دے دیں

    آپ کی یاد سے بہتر ہے کھپانا دل کا

    حسن والوں کو فقط آتا ہے قابو کرنا

    کتنا مشکل ہے نہ جانیں یہ کمانا دل کا

    چارہ گر اب ترے نسخے ہوئے ناقص کیونکر

    اچھا خاصا تمہیں آتا تھا دکھانا دل کا

    رخ شفاف دکھایا جو شرارت سوجھی

    پھر نہ ممکن ہوا پہلو میں سمانا دل کا

    آنکھ سے آنکھ ملائی تو گیا ہاتھوں سے

    کتنا آساں رہا ہم کو یہ گنوانا دل کا

    ایک دو اور بھی گر ہوتے تو بچتے کیوں کر

    تھا مجھے خود ہی یہ منظور لٹانا دل کا

    ایک ہی دل تھا گیا ہاتھ سے میرے وہ بھی

    باندھ کر بیٹھے ہو کیوں اب بھی نشانا دل کا

    دل کو منظور نہیں راہ جہاں پر چلنا

    منفرد ہوتا ہے سب ہی سے ترانا دل کا

    آ کے دیکھے مجھے جس کو بھی ہو شبہہ کوئی

    کون کہتا ہے کہ آساں ہے بچانا دل کا

    ان کی یادوں میں نہ باقی رہی شدت شاید

    ارسلانؔ آج کہا تم نے نہ مانا دل کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے