اب کے گلشن میں وہ آثار نظر آئے ہیں
اب کے گلشن میں وہ آثار نظر آئے ہیں
دیکھ خاشاک بھی گل نار نظر آئے ہیں
جن سے روشن ہے زمانے میں خرد کی قندیل
وہی دیوانے سر دار نظر آئے ہیں
ہل نہ جائے کہیں یہ قصر ستم کی بنیاد
سرخ سائے پس دیوار نظر آئے ہیں
آج فطرت کی کہیں رسم کہن ٹوٹی ہے
رقص میں کوچہ و بازار نظر آئے ہیں
بزم ساقی میں کہیں جام بکف ہیں ہندیؔ
رزم گہہ میں کہیں تلوار نظر آئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.