میرا دل آگاہ ہے اک گنج معانی
میرا دل آگاہ ہے اک گنج معانی
اے ہم سخنو تم نے مری قدر نہ جانی
تیری ہر ادا حسن سے تیرے جو سوا ہے
صورت کو تری صاف بنا دیتی ہے معنی
اک لمحہ بھی اس زیست کا وقفہ ہے ابد کا
اک وہم ہے یہ تفرقۂ باقی و فانی
رخسار ہیں وہ صبح بنارس کی ضیائیں
زلفوں میں تری شام اودھ کی ہے جوانی
ایسے میں ہو توفیق سماعت مجھے اے کاش
جب رات سناتی ہو ترے غم کی کہانی
محبوب کا دیدار تو موقع ہے خوشی کا
اے دیدۂ تر تو نے مری ایک نہ مانی
عالم مری آواز میں ہے قوس قزح کا
موسیقیٔ الفاظ ہے یا رقص معانی
قامت کی بلندی ہے کہ ہے کفر کی معراج
یہ چشم سیہ ہے کہ گناہوں کی جوانی
ہر دن ہے تری تابش رخسار کا پرتو
خوشبو تری ہر رات ہے اے رات کی رانی
جتنا ہی دبے اتنا ہی ابھرے تن رعنا
ہر عضو میں رکھ دی ہے کوئی زندہ کمانی
پیمان محبت بھی اک انداز تغافل
ان آنکھوں سے اب کون کرے یاد دہانی
مخدوم جہاں ہے تو شہ کج کلہاں ہے
آگے ترے کیا چیز ہے اورنگ کیانی
قامت ہے کہ صف بستہ چھلکتے ہوئے ساغر
صورت ہے کہ دریائے محبت کی روانی
مجھ سوختہ ساماں پہ نہ بھولے سے نظر کر
مر جائے نہ اے دوست تری آنکھوں کا پانی
اس روپ کا مسکن نہ ایلورا نہ اجنتا
فنکار خط جسم نہ بہزاد نہ مانی
بے جان تو پھر اے دل مایوس جہاں ہے
یہ اے مری جاں تو نے بھی کیا جی میں ہے ٹھانی
پرچھائیں اسی کی یہ زماں اور مکاں ہیں
ہستیٔ محبت نہ مکانی نہ زمانی
کس ملک سے بھیجے ہوئے آتے ہیں برابر
ہر برگ گل تازہ سے پیغام زبانی
بیدار شب ہجر ستارے بھی ہیں میں بھی
یہ رات کی ہے رات کہانی کی کہانی
یہ شرح حقائق یہ پریشان خیالی
یہ نکتہ رسی اور یہ آشفتہ بیانی
اے ہم سخنو فن کی امانت یہ قلم ہے
ہے اس کی زباں وقف پئے سحر بیانی
انداز فراقؔ اور ہی انداز ہے یارو
وہ میرؔ کا ہم شیوہ نہ وہ غالبؔ ثانی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.