کبھی میری غزل سننے چلے آنا بہانے سے
کبھی میری غزل سننے چلے آنا بہانے سے
ستارے ساتھ لانا تم فلک کے آشیانے سے
سمندر سی تری آنکھیں نظر تیری نگہبانی
کہیں نہ موت ہو جائے کسی کی ڈوب جانے سے
گری ہوگی تری پائل کبھی میرے بغیچے میں
تری خوشبو لگی ہوگی مجھے اس کو اٹھانے سے
عداوت کی سبھا بیٹھی محبت سب کی مجرم تھی
سزائیں دیں شریفوں کو ثبوتوں کو مٹانے سے
زباں اردو نہیں میری لکھا کچھ بھی نہیں جاتا
غزل سے عشق کرتا ہوں میں غالب کے زمانے سے
تری آنکھیں ترا چہرہ تری زلفیں ترا چلنا
چڑھاتے دوست ہیں مجھ کو سبھی تیرے بہانے سے
لگا کر دل محبت میں ہمیشہ یوں بدل جانا
ابھی تک یہ نہیں بدلی تری فطرت زمانے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.