Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کبھی میری غزل سننے چلے آنا بہانے سے

سدیش سنگھ

کبھی میری غزل سننے چلے آنا بہانے سے

سدیش سنگھ

MORE BYسدیش سنگھ

    کبھی میری غزل سننے چلے آنا بہانے سے

    ستارے ساتھ لانا تم فلک کے آشیانے سے

    سمندر سی تری آنکھیں نظر تیری نگہبانی

    کہیں نہ موت ہو جائے کسی کی ڈوب جانے سے

    گری ہوگی تری پائل کبھی میرے بغیچے میں

    تری خوشبو لگی ہوگی مجھے اس کو اٹھانے سے

    عداوت کی سبھا بیٹھی محبت سب کی مجرم تھی

    سزائیں دیں شریفوں کو ثبوتوں کو مٹانے سے

    زباں اردو نہیں میری لکھا کچھ بھی نہیں جاتا

    غزل سے عشق کرتا ہوں میں غالب کے زمانے سے

    تری آنکھیں ترا چہرہ تری زلفیں ترا چلنا

    چڑھاتے دوست ہیں مجھ کو سبھی تیرے بہانے سے

    لگا کر دل محبت میں ہمیشہ یوں بدل جانا

    ابھی تک یہ نہیں بدلی تری فطرت زمانے سے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے