دن رات ہر پلک نے میری جھڑی لگائی
دن رات ہر پلک نے میری جھڑی لگائی
کیا جانے آنکھ تجھ سے میں کس گھڑی لگائی
جو حسن موتیوں کے تول ان دنوں بکے تھا
تو نے بہ نرخ گندم اس کی دھڑی لگائی
دکھ چوٹ کا نہ میرے دل سے گیا طبیبو
میں سو طرح سے گھس گھس بوٹی جڑی لگائی
آیا نظر تو جس کو ہر اک پلک نے اس کی
ملنے میں دیر باہم کتنی بڑی لگائی
آنکھوں سے آنکھیں ناصح ہرگز بندھی نہ چھوٹیں
زنجیر کی کڑی پر جیسے کڑی لگائی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.