دیکھا ہے جب سے تری اس سادگی کو
دیکھا ہے جب سے تری اس سادگی کو
دیکھتا ہی جا رہا ہوں بس تجھی کو
رابطہ جب سے مرا تجھ سے ہوا ہے
دل کرے ہے روک دوں میں اس گھڑی کو
بیٹھ جاؤ آ کے تم جو پاس میرے
مار ڈالوں تب میں اپنی بزدلی کو
زخم پہ تم میرے یہ دل رکھ دو اپنا
دے دو راحت تھوڑی میری شاعری کو
پھول سارے کھلنے لگ جائیں چمن کے
دیکھ کر ہلکی سی تیری تازگی کو
پاس میرے کاش تیری آنکھیں ہوتی
دیکھتا میں جس سے تیری دل لگی کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.