زندگی کس کی عطا ہے اس دیار میر میں
زندگی کس کی عطا ہے اس دیار میر میں
سانس لینا بھی سزا ہے اس دیار میر میں
سر سلامت ہے مگر دل میں یہ کیسی کربلا
صف بہ صف ماتم بچھا ہے اس دیار میر میں
ظاہری اسباب سے دل جیت سکتے ہیں مگر
اس میں خطرہ جان کا ہے اس دیار میر میں
بس یہ اک خانہ پری ہے کرتے رہیے دستخط
پوچھیے مت کیا خطا ہے اس دیار میر میں
وقت کی جادوگری سے ہے عجب منظر یہاں
صبح کیسی شام کیا ہے اس دیار میر میں
تشنگی کا ایسا عالم ہیں دعائیں بے اثر
لمحہ لمحہ کربلا ہے اس دیار میر میں
میرؔ جی اور صاحب تقدیر بھی روتے ملے
شہر دل گریہ ہوا ہے اس دیار میر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.