تہذیب بدلی سب کے سلیقے بدل گئے
تہذیب بدلی سب کے سلیقے بدل گئے
اکیسویں صدی میں یہ بندے بدل گئے
میت اٹھاتے وقت وہ کاندھے بدل گئے
مردوں کو دیکھنے کے نظریے بدل گئے
گرگٹ سے تیز لوگ بدلتے ہیں رنگ روپ
کتنے ذرا سے وقت میں چہرے بدل گئے
پھر رہ گئی ادھوری مسلسل غزل مری
آئی جو ذہن میں تو یہ مصرعے بدل گئے
نظریں کہاں ملاتے ہیں وہ مجھ سے آج کل
پیسے کا زعم ہونے سے لہجے بدل گئے
اس کے نگر ٹھہر کے یہ معلوم ہو گیا
دروازے سب قدیم ہیں پردے بدل گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.