عجز اور انکسار دیکھا ہے
عجز اور انکسار دیکھا ہے
برسر اقتدار دیکھا ہے
پھر بھی دل یہ نہیں بھرا اپنا
دیکھا اور بار بار دیکھا ہے
تیرے چہرے پہ پھول کے جیسے
جب بھی دیکھا نکھار دیکھا ہے
ہم نے دیکھے ہیں لہجے فرعونی
دولتوں کا خمار دیکھا ہے
جس پہ تصویر تھی نہ عورت کی
آج اک اشتہار دیکھا ہے
ہر گلے میں بخاریؔ جی ہم نے
غربتوں کا ہی ہار دیکھا ہے
ہم نے ماں کی دعاؤں کا عاصمؔ
گرد اپنے حصار دیکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.