بہ فیض عشق امریکہ بر اوج دار می رقصم
بہ فیض عشق امریکہ بر اوج دار می رقصم
کوئی چارہ نہیں ہے عاجز و لاچار می رقصم
سب اہل شہر کو میں بے نیاز پیرہن کر کے
فصیل شہر پر بے جبہ و دستار می رقصم
مرے دست ہوس میں ہے فقط کاسہ گدائی کا
سو پیش اہل دولت بن کے بر خوردار می رقصم
سیاست کی نزاکت کے تقاضوں کو سمجھتا ہوں
گہے خوابیدہ می رقصم گہے بیدار می رقصم
مرا دل ٹوٹ کر بھی کام میرے آ گیا ضامنؔ
کہ بایک جنبش آں چشم گوہر بار می رقصم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.