Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بین کرتی ہوئی پھرتی ہے ہوا سینے میں

عبداللہ ندیم

بین کرتی ہوئی پھرتی ہے ہوا سینے میں

عبداللہ ندیم

MORE BYعبداللہ ندیم

    بین کرتی ہوئی پھرتی ہے ہوا سینے میں

    ہے کئی روز سے خاموش خدا سینے میں

    رفتہ رفتہ یہ نگل جائے گا دل کی کاریز

    ہم لیے پھرتے ہیں اک دشت بلا سینے میں

    تیرے چہرے کے خد و خال ابھر آئیں گے

    خون کی دھار گرا اور ذرا سینے میں

    لے یہ غرقابیٔ جاں کا بھی تماشا اب دیکھ

    میں نہ کہتا تھا کہ طوفاں نہ اٹھا سینے میں

    میں تو اس دن تجھے مانوں گا کشادہ دل کا

    اک جگہ میرے لیے بھی تو بنا سینے میں

    اب وہ آنکھیں ہی نہیں جن سے لہو روتے تھے

    ورنہ کیا ہوتا نہیں شور عزا سینے میں

    پہلے ہر آن بپا رہتا تھا اک جشن ندیمؔ

    اب رہا کرتی ہے بس ہو کی صدا سینے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے