بین کرتی ہوئی پھرتی ہے ہوا سینے میں
بین کرتی ہوئی پھرتی ہے ہوا سینے میں
ہے کئی روز سے خاموش خدا سینے میں
رفتہ رفتہ یہ نگل جائے گا دل کی کاریز
ہم لیے پھرتے ہیں اک دشت بلا سینے میں
تیرے چہرے کے خد و خال ابھر آئیں گے
خون کی دھار گرا اور ذرا سینے میں
لے یہ غرقابیٔ جاں کا بھی تماشا اب دیکھ
میں نہ کہتا تھا کہ طوفاں نہ اٹھا سینے میں
میں تو اس دن تجھے مانوں گا کشادہ دل کا
اک جگہ میرے لیے بھی تو بنا سینے میں
اب وہ آنکھیں ہی نہیں جن سے لہو روتے تھے
ورنہ کیا ہوتا نہیں شور عزا سینے میں
پہلے ہر آن بپا رہتا تھا اک جشن ندیمؔ
اب رہا کرتی ہے بس ہو کی صدا سینے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.