خلوت جاں اک سکوت جاوداں سا ہو گیا
خلوت جاں اک سکوت جاوداں سا ہو گیا
ہر طرف اک خوش نمائی کا سماں سا ہو گیا
قطرہ جب دریا میں ڈوبا سر بہ سر دریا ہوا
آب کا ذرہ بھی اب بحر رواں سا ہو گیا
روشنی کی جستجو میں چلتے چلتے یوں لگا
ہر اندھیرا بھی چراغوں کا نشاں سا ہو گیا
درد جب بھی دل سے گزرا سوز بڑھتا ہی گیا
بجھ چکا تھا ایک شعلہ پھر جواں سا ہو گیا
گوشۂ جاں سے پکارا جب اسے تو یوں لگا
فاصلہ مٹنے لگا وہ نفس جاں سا ہو گیا
اس کی ہر اک بات پر دل کو ہوا ایسا یقیں
میرا ہر اک وسوسہ اب رائیگاں سا ہو گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.