Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اب تو نہیں رہا مجھے خوابوں پہ اعتبار

ملاذ نقوی

اب تو نہیں رہا مجھے خوابوں پہ اعتبار

ملاذ نقوی

MORE BYملاذ نقوی

    اب تو نہیں رہا مجھے خوابوں پہ اعتبار

    کرنے لگا ہوں جاگتی آنکھوں پہ اعتبار

    تم کو نہیں پتا ہے کہ کیا معجزہ ہوا

    دریا کو ہو گیا ہے کناروں پہ اعتبار

    بیٹھے ہیں دھوپ میں وہ چراغاں کیے ہوئے

    ہوتا نہیں ہے جن کو کتابوں پہ اعتبار

    جب راستے زمیں کے دکھائی نہ دیں تمہیں

    اک بار کر کے دیکھو ستاروں پہ اعتبار

    ڈرنے لگے ہیں وقت کے حاکم بڑے بڑے

    کرنے لگے ہیں لوگ سوالوں پہ اعتبار

    کوئی ملاذؔ اپنا نگہباں نہیں رہا

    کرتے رہیں گے اپنی ہی غزلوں پہ اعتبار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے