اب تو نہیں رہا مجھے خوابوں پہ اعتبار
اب تو نہیں رہا مجھے خوابوں پہ اعتبار
کرنے لگا ہوں جاگتی آنکھوں پہ اعتبار
تم کو نہیں پتا ہے کہ کیا معجزہ ہوا
دریا کو ہو گیا ہے کناروں پہ اعتبار
بیٹھے ہیں دھوپ میں وہ چراغاں کیے ہوئے
ہوتا نہیں ہے جن کو کتابوں پہ اعتبار
جب راستے زمیں کے دکھائی نہ دیں تمہیں
اک بار کر کے دیکھو ستاروں پہ اعتبار
ڈرنے لگے ہیں وقت کے حاکم بڑے بڑے
کرنے لگے ہیں لوگ سوالوں پہ اعتبار
کوئی ملاذؔ اپنا نگہباں نہیں رہا
کرتے رہیں گے اپنی ہی غزلوں پہ اعتبار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.